بغاوت پر اکسانے کا کیس، شہباز گل پر فرد جرم عائد کرنے کی کارروائی مؤخر کر دی گئی

بغاوت پر اکسانے کا کیس، شہباز گل پر فرد جرم عائد کرنے کی کارروائی مؤخر کر دی گئی
اسلام آباد کی مقامی عدالت میں شہباز گِل اور دیگر ملزمان کے خلاف اداروں میں بغاوت پر اکسانے کے مقدمے کی سماعت بھی ہوئی۔
کیس کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج طاہر عباس سپرا نے کی۔عدالت میں عماد یوسف اور اسپیشل پراسیکیوٹر رضوان عباسی پیش ہوئے۔
عدالت میں شہباز گل کے وکیل برہان معظم بھی موجود تھے۔جہنیوں نے شبہاز گل کی جانب سے عدالت میں دو درخواستیں دائر کی تھی۔ پبلک پراسیکیوٹر نے دلائل دیتے ہوئے مزید کہا کہ ملزمان کی درخواستوں پر آج ہی دلائل دینے کے لیے تیار ہوں۔
شہباز گِل کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے مزید کہا کہ شفاف ٹرائل کے لیے ضروری ہے کہ ہمیں ملزمان کون ہیں، معلوم ہوا ہے کہ 7، 8 مزید ملزمان ہیں، وہ کون ہیں، ہم؟کچھ بھِی معلوم نہیں ہے ، مجھے وہ لسٹ چاہیئے،
معلوم ہو کہ کیس میں ملزمان کون کون پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے بتایا کہ اس عدالت میں دو ملزمان پیش ہو رہے ہیں۔ جج نے ریمارکس دیے ہوں گے۔
ہوئے کہا کہ پراسیکیوٹر تو کہہ رہے ہیں کہ 2 کے علاوہ دیگر ملزمان نہیں ہیں۔ وکیل برہان معظم نے جج سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ لاہور سے چلے تھے بڑے امیج کے ساتھ۔ جج نے وکیل برہان معظم سے استفسار کیا کہ تو کیا بنا امیج؟ وکیل برہان معظم نے کہا کہ یہاں کی عدالتیں دیکھ کر حیران ہوا ہوں۔ شہباز گِل کے وکیل برہان معظم نے کیس ملتوی کرنے کی استدعا کی۔ پراسیکیوٹر راجہ رضوان عباسی نے کہا کہ عدالت کوئی قریب کی تاریخ رکھ لے۔ جج نے استفسار کیا کہ آئندہ سماعت کی 26 نومبر کی تاریخ رکھ لیں؟ جج نے شہباز گِل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اس دن آپ نے ویسے بھی اسلام آباد آنا ہے۔ شہباز گِل نے کہا کہ اس دن راستے بند ہوں گے۔ عدالت نے شہباز گِل کے خلاف ادارے میں بغاوت پر اکسانے کے کیس میں فرد جرم عائد کرنے کی کارروائی 3 دسمبر تک